حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ " حِينَ بُويِعَ لِعُثْمَانَ: مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَاهَا ذَا فَوْقٍ "
ترجمہ
عبداللہ بن سنان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا، جب عثمان کی بیعت کی گئی: ”ہم نے اس امر کے سب سے اونچے اور بہترین فرد کے انتخاب میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ " حِينَ بُويِعَ لِعُثْمَانَ: مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَاهَا ذَا فَوْقٍ "
ترجمہ
حکیم بن جابر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا، جب عثمان کی بیعت کی گئی: ”ہم نے اس امر کے سب سے اونچے اور بہترین فرد کے انتخاب میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا يَلْبَثُ إِلَّا قَلِيلًا، وَصَاحِبُ رَحَى دَارَةِ الْعَرَبِ يَعِيشُ حَمِيدًا، وَيُقْتَلُ شَهِيدًا "، فَقَالَ رَجُلٌ: " مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: «وَأَنْتَ سَيَسْأَلُكَ النَّاسُ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصًا كَسَاكَ اللهُ إِيَّاهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ خَلَعْتَهُ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ»
ترجمہ
… نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میرے بعد بارہ خلیفے ہوں گے: ابوبکر صدیق زیادہ دیر نہیں ٹھہریں گے، اور عرب کی چکی کے مالک خوش نامی سے زندہ رہیں گے اور شہید کیے جائیں گے۔“ ایک آدمی نے پوچھا: وہ کون ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر بن خطاب۔“ پھر آپ ﷺ نے عثمان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اور تم سے لوگ مطالبہ کریں گے کہ تم وہ قمیص اتار دو جو اللہ نے تمہیں پہنائی ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم نے اسے اتار دیا تو جنت میں داخل نہ ہو گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ، إِمَامُ مَسْجِدِ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَعَهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتَبَسَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ، وَكَانَ يَخْرُجُ يَتَوَكَّفُ عَنْهُمُ الْخَبَرَ " فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ أَوَّلُ مَنْ هَاجَرَ إِلَى اللهِ بِأَهْلِهِ بَعْدَ لُوطٍ»
ترجمہ
…تو نبی کریم ﷺ کے پاس ان کی خبر نہ پہنچ سکی، اور آپ ﷺ خود نکل کر ان کی خبر کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ایک عورت آئی اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عثمان لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل خانہ سمیت اللہ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے شخص ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ عُثْمَانَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَبَايَعَ أَصْحَابَهُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، «بَايَعَ لِعُثْمَانَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى» ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لِأَبِي عَبْدِ اللهِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا مَا طَافَ حَتَّى أَطُوفَ»
ترجمہ
…ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے عثمان کو اہل مکہ کی طرف بھیجا اور اس دوران آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیعتِ رضوان لی، تو آپ ﷺ نے عثمان کی طرف سے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کی۔ لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ (عثمان) کو مبارک ہو کہ وہ امن سے بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اتنی اور اتنی مدت بھی ٹھہرے رہتے تو بھی طواف نہ کرتے جب تک میں طواف نہ کر لوں۔“