المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من ذكر عن عبد الله بن مسعود أنه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے ذکر کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن (جنوں کی رات) میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْبَجَلِيُّ الذَّهَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ حَرْبِ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغْنَا أَعْلَى مَكَّةَ، فَخَطَّ عَلَيَّ خُطَّةً وَقَالَ: «لَا تَبْرَحْ» ، ثُمَّ انْصَاعَ فِي أَجْبَالٍ، فَرَأَيْتُ الرِّجَالَ يَتَحَدَّرُونَ عَلَيْهِ مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ حَتَّى حالُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ وَقُلْتُ: لَأَضْرِبَنَّ حَتَّى أَسْتَنْقِذَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ: «لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ» ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَمَّنَا الْفَجْرُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ فَقَالَ: «مَا زِلْتَ عَلَى حَالِكَ؟» قُلْتُ: لَوْ لَبِثْتَ شَهْرًا مَا بَرِحْتُ حَتَّى تَأْتِيَنِي، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ بِمَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْنَعَ، فَقَالَ: «لَوْ خَرَجْتَ مَا الْتَقَيْتُ أَنَا وَلَا أَنْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، ثُمَّ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي أَصَابِعِي فَقَالَ: «إِنِّي وُعِدْتُ أَنْ يُؤْمِنَ بِيَ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ، فَأَمَّا الْإِنْسُ فَقَدْ آمَنَتْ بِي، وَأَمَّا الْجِنُّ فَقَدْ رَأَيْتَ» ، قَالَ: «وَمَا أَظُنُّ أَجَلِي إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عُمَرَ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا؟ قَالَ: «ذَاكَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَوْ بَايَعْتُمُوهُ وَأَطَعْتُمُوهُ أَدْخَلَكُمُ الْجَنَّةَ أَكْتَعِينَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے شبِ جن مجھے اپنے ساتھ لینے کو کہا، میں آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی حصے میں پہنچے، آپ ﷺ نے میرے لیے ایک خط کھینچا اور فرمایا: ”یہاں سے مت ہٹنا۔“ پھر آپ ﷺ پہاڑوں کی طرف مڑ گئے۔ میں نے دیکھا کہ کچھ آدمی پہاڑوں کی چوٹیوں سے آپ ﷺ کی طرف اتر رہے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے میرے اور آپ ﷺ کے درمیان حائل ہو کر رکاوٹ ڈال دی۔ میں نے تلوار میان سے نکالی اور کہا: میں لڑوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو چھڑا لوں۔ پھر مجھے آپ ﷺ کا فرمان یاد آیا: ”جب تک میں تمہارے پاس نہ آؤں یہاں سے مت ہٹنا۔“ فرماتے ہیں: میں اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے، میں کھڑا تھا، فرمایا: ”اب تک اسی حال میں کھڑے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اگر آپ ﷺ ایک مہینہ بھی ٹھہرتے تو بھی میں آپ ﷺ کے آنے تک نہ ہٹتا۔ پھر میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ میں کیا کرنے والا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نکلتے تو میں اور تم قیامت کے دن تک کبھی نہ ملتے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں میری انگلیوں میں پروئیں اور فرمایا: ”مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے کہ جن اور انس مجھ پر ایمان لائیں گے، انس تو مجھ پر ایمان لے آئے، رہے جن، تو تم نے دیکھ لیا۔“ پھر فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ ابوبکر کو خلیفہ نہیں بناتے؟ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے سمجھا کہ آپ ﷺ کو یہ پسند نہ آیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ عمر کو خلیفہ نہیں بناتے؟ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے سمجھا کہ آپ ﷺ کو یہ بھی پسند نہ آیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ علی کو خلیفہ نہیں بناتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اگر تم سب اس کی بیعت کرو اور اس کی اطاعت کرو تو وہ تم سب کو جنت میں داخل کر دے گا۔“