حدیث نمبر: 9934
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِينَاءَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ، فَتَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَالَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: اسْتَخْلِفْ، قَالَ: «مَنْ؟» قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: فَاسْتَخْلِفْ، قَالَ: «مَنْ؟» قُلْتُ: عُمَرُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: فَاسْتَخْلِفْ، قَالَ: «مَنْ؟» قُلْتُ: عَلَيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ أَطَاعُوهُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ أَجْمَعِينَ أَكْتَعِينَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں شبِ وفدِ جن نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے ایک سانس لی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ کو کیا ہوا؟ فرمایا: ”اے ابن مسعود! مجھے میری وفات کی خبر دی گئی ہے۔“ میں نے عرض کیا: کسی کو خلیفہ بنا دیجیے۔ فرمایا: ”کسے؟“ میں نے عرض کیا: ابوبکر کو۔ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے، پھر کچھ دیر چلتے رہے، پھر سانس لی، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ ﷺ کو کیا ہوا؟ فرمایا: ”اے ابن مسعود! مجھے میری وفات کی خبر دی گئی ہے۔“ میں نے عرض کیا: تو کسی کو خلیفہ بنا دیجیے۔ فرمایا: ”کسے؟“ میں نے عرض کیا: عمر کو۔ تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے، پھر کچھ دیر چلتے رہے، پھر سانس لی، میں نے عرض کیا: آپ ﷺ کو کیا ہوا؟ فرمایا: ”اے ابن مسعود! مجھے میری وفات کی خبر دی گئی ہے۔“ میں نے عرض کیا: تو کسی کو خلیفہ بنا دیجیے۔ فرمایا: ”کسے؟“ میں نے عرض کیا: علی بن ابی طالب کو۔ فرمایا: ”سن لو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر انہوں نے اس کی اطاعت کی تو وہ سب کے سب جنت میں داخل ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9934
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 67، حدیث 9970