حدیث نمبر: 9700
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا، فَجَاءَ أَوْلَادُ الْمَقْتُولِ وَقَدْ عَفَا أَحَدُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ، لِابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «أَقُولُ لَهُ قَدْ أُحْرِزَ مِنَ الْقَتْلِ» ، قَالَ: فَضَرَبَ عَلَى كَتِفِهِ، وَقَالَ: كَنِيفٌ مُلِئَ عِلْمًا
ترجمہ

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا، تو مقتول کے بیٹے آئے اور ان میں سے ایک نے معاف کر دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو ان کے پہلو میں تھے: تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری رائے میں وہ قتل کی سزا سے بچ گیا۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یہ تو علم سے بھرا ہوا برتن ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9700
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 349، حدیث 9735