حدیث نمبر: 9689
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، فَقَالَ: إِنَّ عَمِّي أَوْصَى إِلَيَّ تِرْكَتَهُ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ تِرْكَتِهِ، أَفَأَشْتَرِيهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ مَالِهِمْ شَيْئًا»
ترجمہ

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں: ہمدان قبیلے کا ایک آدمی ایک ابلق گھوڑے پر سوار ہو کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میرے چچا نے اپنی وراثت کا وصی مجھے بنایا ہے، اور یہ گھوڑا انہی کے ترکے میں سے ہے، کیا میں اسے خرید لوں؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، اور ان کے مال میں سے کچھ بھی قرض نہ لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9689
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 347، حدیث 9724