حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا شَاةٌ مَطْبُوخَةٌ، فَقَالَ: «يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ سَكَتَّ لَأَعْطَيْتَنِي أَذْرُعًا مَا دَعَوْتُهَا»
ترجمہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہمارے پاس ایک پکی ہوئی بکری تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دیا تو آپ ﷺ نے کھایا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دیا تو آپ ﷺ نے کھایا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بکری کے دو سے زیادہ دستی حصے ہوتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم خاموش رہتے تو جتنا مانگتا رہتا تمہیں دستی حصے ملتے رہتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 966
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 325، حدیث 970