المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ أَتَى عَبْدَ اللهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ حَرَّمَ الْفِرَاشَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ} [المائدة: ٨٧] أَعْتِقْ رَقَبَةً "
قَالَ: عَبْدِي سَرَقَ مِنْ عَبْدِي قَبَاءً، قَالَ: «مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ»
قَالَ: أَمَتِي زَنَتْ، قَالَ: «فَاجْلِدُوهَا» ، قَالَ: إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ، قَالَ: «إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا»عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ معقل بن مقرن سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اس نے بستر کو (اپنے اوپر) حرام کر لیا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو“ [سورۃ المائدہ: 87]، (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) ایک غلام آزاد کرو۔ پھر انہوں نے کہا: میرے غلام نے میرے (دوسرے) غلام کا کرتہ چرایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”تیرا مال ہی تیرے مال میں سے چوری ہوا ہے (اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا)۔“ پھر انہوں نے کہا: میری باندی نے زنا کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”تو اسے کوڑے مارو۔“ اس نے کہا: وہ شادی شدہ نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”اس کا اسلام ہی اس کا احصان ہے۔“