حدیث نمبر: 9650
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عُمَرَ يَشْكُو إِلَيْهِ مَا يَلْقَى مِنَ النِّسَاءِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّا لَنَجِدُ ذَلِكَ حَتَّى إِنِّي لَأُرِيدُ الْحَاجَةَ فَيُقَالُ لِي: مَا تَذْهَبُ إِلَّا إِلَى فَتَيَاتِ بَنِي فُلَانٍ تَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ شَكَى إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَرَا خُلُقَ سَارَةَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ فَالْبَسْهَا عَلَى مَا كَانَ فِيهَا مَا لَمْ تَرَ عَلَيْهَا خِزْيَةً فِي دِينِهَا " فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ حَشَى اللهُ بَيْنَ أَضْلَاعِكَ عِلْمًا كَثِيرًا
ترجمہ

…(ایک راوی کے والد) بیان کرتے ہیں: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے عورتوں کے بارے میں اپنی پریشانی کی شکایت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں بھی یہی محسوس ہوتا ہے، حتیٰ کہ میں کسی کام سے جانا چاہتا ہوں تو مجھ سے کہا جاتا ہے: تم تو فلاں قبیلے کی لڑکیوں کو دیکھنے ہی جاتے ہو۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ بات نہیں پہنچی کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے سیدہ سارہ کی طبیعت کی تیزی کی شکایت کی، تو انہیں بتایا گیا: وہ تو پسلی سے پیدا کی گئی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اسی حال میں گزارا کرو جیسی وہ ہے، جب تک تم اس میں اپنے دین کے لیے کوئی رسوائی کی بات نہ دیکھو۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے تمہاری پسلیوں کے درمیان بہت سا علم بھر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9650
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 338، حدیث 9685