حدیث نمبر: 9635
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا، قَالَ: «هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا» ، فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ تَابَا؟ فَقَالَ: " {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ} [الشورى: ٢٥] فَلَمْ يَزَلِ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرَدِّدُهَا " حَتَّى قُلْتُ: إِنَّهُ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا
ترجمہ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی عورت سے زنا کرے، پھر اس سے نکاح کر لے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ دونوں زانی ہی رہیں گے جب تک اکٹھے ہیں۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اگر وہ دونوں توبہ کر لیں تو کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے“ [سورۃ الشوریٰ: 25]، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ آیت بار بار دہراتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے کہا: وہ (توبہ کے بعد نکاح میں) کوئی حرج نہیں سمجھتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9635
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 336، حدیث 9670