حدیث نمبر: 9615
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بَعْضُ الْكَلَامِ فَقَالَتْ: لَوْ أَنَّ الَّذِي مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتَ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنَّ الَّذِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِي بِيَدِكِ، قَالَتْ: فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا، وَسَأَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ» ، فَرَكِبَ فَلَقِيَ عُمَرَ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: «بِفِيهَا الْحَجَرُ، فَعَلَ اللهُ بِالرِّجَالِ وَفَعَلَ، يَعْمِدُونَ إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ أَمْرِ النِّسَاءِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي أَيْدِيَهِنَّ، مَا تَرَى؟» قُلْتُ: «أُرَاهَا وَاحِدَةً، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» ، قَالَ: «نَعْمَ مَا رَأَيْتَ وَلَوْ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَمْ تُصِبْ»
ترجمہ

…میری کچھ بات چیت ہوئی تو اس نے کہا: اگر میرے معاملے میں سے جو میرا حصہ ہے وہ میرے اپنے ہاتھ میں ہوتا تو تجھے معلوم ہو جاتا کہ میں کیا کرتی۔ میں نے کہا: میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ تیرے بارے میں جو (فیصلہ) میرے ہاتھ میں ہے وہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کہا: تو تجھے تین طلاقیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور تم اس کے زیادہ حقدار ہو، اور میں اس بارے میں امیرالمؤمنین سے پوچھوں گا۔“ چنانچہ وہ سوار ہو کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور انہیں پورا واقعہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے منہ میں پتھر پڑے، اللہ مردوں کو (سزا دے)، یہ اس چیز کا رخ کرتے ہیں جو اللہ نے عورتوں کے معاملے میں ان کے ہاتھ میں رکھی ہے، پھر اسے خود عورتوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، تمہاری کیا رائے ہے؟“ میں نے کہا: ”میری رائے میں یہ ایک طلاق ہے اور وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”تم نے بہت اچھی رائے دی، اگر تم اس کے سوا رائے دیتے تو درست نہ ہوتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9615
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 332، حدیث 9650