حدیث نمبر: 9614
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَوِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَاءَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ: لَوْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتَ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ: فَإِنَّ الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ، قَالَتْ: فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، قَالَ: «أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِالرَّجْعَةِ» ، وَسَأَلْقَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَلَقِيَهُ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: «فَعَلَ اللهُ بِالرِّجَالِ وَفَعَلَ اللهُ بِالرِّجَالِ يَعْمِدُونَ إِلَى مَا جَعَلَهُ اللهُ بِأَيْدِيهِمْ فَيَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِي النِّسَاءِ، بِفِيهَا التُّرَابُ، مَاذَا قُلْتَ؟» قَالَ: قُلْتُ: «أُرَاهَا وَاحِدَةً وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» ، قَالَ: «وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَلَوْ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ رَأَيْتُ أَنَّكَ لَمْ تُصِبْ» قَالَ مَنْصُورٌ: فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا لَوْ كَانَتْ قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُمَا سَوَاءٌ
ترجمہ

…(ایک عورت نے اپنے شوہر سے) کہا: اگر میرے معاملے میں سے جو تیرے ہاتھ میں ہے وہ میرے اپنے ہاتھ میں ہوتا تو تجھے معلوم ہو جاتا کہ میں کیا کرتی۔ اس نے کہا: تو پھر تیرے بارے میں جو (فیصلہ) میرے ہاتھ میں ہے وہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کہا: تو تجھے تین طلاقیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری رائے میں یہ ایک طلاق ہے اور تم رجوع کے زیادہ حقدار ہو، اور میں امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ سے (اس بارے میں) ملوں گا۔“ چنانچہ وہ ان سے ملے اور انہیں پورا واقعہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مردوں کو (ایسی حرکت کی سزا دے)، اللہ مردوں کو (سزا دے)، یہ اس چیز کا رخ کرتے ہیں جو اللہ نے ان کے ہاتھ میں رکھی ہے پھر اسے عورتوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، اس کے منہ میں مٹی پڑے، تم نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے کہا: ”میری رائے میں یہ ایک طلاق ہے اور وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری بھی یہی رائے ہے، اور اگر تم اس کے سوا کوئی رائے دیتے تو میں سمجھتا کہ تم نے درست بات نہیں کہی۔“ منصور بیان کرتے ہیں: میں نے ابراہیم سے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے تھے: ”اللہ اس کی رائے کو غلط کرے، اگر وہ یہ کہتی کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دے دی تو (بات مختلف ہوتی)۔“ ابراہیم نے فرمایا: دونوں صورتیں ایک برابر ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9614
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 332، حدیث 9649