المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يُنْزِلُونَهُ مَنْزِلَةَ الْأَمِيرِ، فَتَذَاكَرُوا الْمَرْأَةَ يَمُوتُ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِي حَامِلٌ، فَقُلْتُ: قَبْلَ انْقِضَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ قَالَ: فَحَدَّثْتُ حَدِيثَ سُبَيْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: فَضَمَرَ إِلَيَّ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ: إِنِّي إِذًا لَحَرِيصٌ عَلَى الْكَذِبِ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَكَأَنَّهُ اسْتُحْيِي، فَقَالَ: لَكِنَّ عَمَّهُ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ هَذَا، قَالَ: فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ الْهَمْدَانِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَذَهَبَ يَذْكُرُ حَدِيثَ سُبَيْعَةَ، فَقُلْتُ: لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، أَسَمِعْتَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ ذَكَرُوا ذَاكَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: «مَا تَقُولُونَ إِنْ وَضَعَتْ قَبْلَ انْقِضَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ؟» قُلْنَا: تَنْتَظِرُ حَتَّى يَمْضِيَ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَ: «فَمَا تَقُولُونَ إِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ؟» قُلْنَا: حَتَّى تَضَعَ، قَالَ: " تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ، لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الصُّغْرَى أَوِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ} [الطلاق: ٤] "…میں مالک بن عامر ہمدانی سے ملا اور ان سے پوچھا تو وہ سبیعہ کی حدیث بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا: میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، کیا آپ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں کچھ کہتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ان کے سامنے یہ مسئلہ ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار مہینے دس دن پورے ہونے سے پہلے جنم دے دے؟“ ہم نے کہا: وہ چار مہینے دس دن گزرنے تک انتظار کرے گی۔ انہوں نے فرمایا: ”تو تمہارا کیا خیال ہے اگر چار مہینے دس دن گزر جائیں اور وہ ابھی جنم نہ دے چکی ہو؟“ ہم نے کہا: پھر وہ جنم دینے تک انتظار کرے گی۔ انہوں نے فرمایا: ”تم اس پر سختی تو کرتے ہو مگر اسے رخصت نہیں دیتے، سورۃ النساء الصغریٰ یا القصریٰ سورۃ الطولیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے: ”اور حمل والیوں کی (عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں)“ [سورۃ الطلاق: 4]۔“