حدیث نمبر: 9347
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ طَيِّئٍ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى مَسْجِدٍ لَنَا، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، ثُمَّ قَالَ: نَحُجُّ بَيْتَ رَبِّنَا، وَنَقْضِي الدَّيْنَ، وَهُوَ مِثْلَ الْقَطَوَاتِ يَهْوِينَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ» فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہماری ایک مسجد کے پاس سے گزرے، تو ان میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور اس نے سورۃ الفاتحہ پڑھی، پھر کہا: ”ہم اپنے رب کے گھر کا حج کریں گے اور قرض ادا کریں گے، اور وہ سواریاں قطاؤں کے غول کی طرح تیز اڑتی جا رہی ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے اس ملتِ آخرہ میں ایسی کوئی چیز نہیں سنی، یہ تو محض من گھڑت ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9347
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 276، حدیث 9379