حدیث نمبر: 9228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ طَيِّئٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَقْبَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ خَارِجًا مِنْ دَارِهِ يُهَرْوِلُ، فَهَرْوَلْتُ مَعَهُ وَقُلْتُ: لَقَدْ فَعَلْتَ شَيْئًا كُنْتَ تَنْهَانَا عَنْهُ، فَقَالَ: «بَادَرْتُ حَدَّ الصَّلَاةِ»
ترجمہ

طیء قبیلے کے ایک شخص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنے گھر سے تیز چلتے ہوئے نکلنا دیکھا، تو میں بھی ان کے ساتھ تیز چلنے لگا اور کہا: آپ نے ایسا کام کیا جس سے آپ ہمیں منع کیا کرتے تھے۔ فرمایا: ”میں نماز کے وقت کو پانے کی جلدی کر رہا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9228
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 255، حدیث 9260