حدیث نمبر: 9142
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا يَأْمَنُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَعُودَ رَأْسُهُ رَأْسَ كَلْبٍ، وَلَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے جو نماز میں امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے، وہ اس بات سے کیسے بے خوف ہو سکتا ہے کہ اس کا سر کتے کے سر جیسا بن جائے؟ اور جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں (آسمان کی طرف) اٹھاتے ہیں انہیں ضرور باز آ جانا چاہیے، ورنہ ان کی نگاہیں واپس نہیں لوٹائی جائیں گی۔“