حدیث نمبر: 9129
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنِ الثُّلُثِ، فَأَذِنُوا لَهُ، ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ، فَسُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «ذَاكَ النُّكْرَةُ لَا يَجُوزُ»
ترجمہ

قاسم بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے ورثاء سے اجازت مانگی کہ وہ تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے، تو انہوں نے اسے اجازت دے دی، پھر اس کے مرنے کے بعد وہ اپنی اجازت سے پھر گئے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ (اجازت دینے کے بعد) پھر جانا ناپسندیدہ حرکت ہے، جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9129
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 237، حدیث 9161