❮
❯
حدیث نمبر: 9114
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ بِحَدِيثٍ، أَتَيْنَاكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِ اللهِ: إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً أَرْبَعِينَ، ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً أَرْبَعِينَ، فَإِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ نَزَلَ مَلَكٌ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا أَكْتُبُ؟ فَيَقُولُ: اكْتُبْ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، مَا رِزْقُهُ، وَمَا أَثَرُهُ، وَمَا أَجَلُهُ، فَيُوحِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَا يَشَاءُ، وَيُكْتَبُ الْمَلَكُ "، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ} [الإنسان: ٢] ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «الْأَمْشَاجُ الْعُرُوقُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ہم تمہیں کوئی حدیث بیان کریں تو ہم اس کی تصدیق اللہ کی کتاب سے تمہارے سامنے لے آتے ہیں: بے شک نطفہ رحم میں چالیس دن رہتا ہے، پھر چالیس دن علقہ (لوتھڑا) رہتا ہے، پھر چالیس دن مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) رہتا ہے، پھر جب اللہ عزوجل مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو ایک فرشتہ اترتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: لکھ، تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ تو فرمایا جاتا ہے: لکھ کہ یہ بدبخت ہے یا خوش نصیب، مذکر ہے یا مؤنث، اس کا رزق کیا ہے، اس کا اثر (عمل) کیا ہے، اور اس کی عمر کتنی ہو گی، پھر اللہ عزوجل اس کی طرف جو چاہتا ہے وحی فرماتا ہے، اور فرشتہ (وہ سب) لکھ لیتا ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں“ [سورۃ الانسان: 2]، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”امشاج سے مراد رگیں ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9114
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 233، حدیث 9146