حدیث نمبر: 9113
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أَنْبَأْتُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ، إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا مَاتَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيُثَبِّتُهُ اللهُ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَيُفْرَجُ لَهُ فِيهِ "، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: ٢٧]
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کوئی حدیث بیان کروں تو اس کی تصدیق بھی لاتا ہوں۔ بندہ مسلم جب مرتا ہے تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تو اللہ اسے ثابت قدم رکھتا ہے اور وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے، اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ چنانچہ اس کی قبر اس کے لیے کشادہ اور فراخ کر دی جاتی ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی ثابت قول کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے، اور اللہ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے“ [سورۃ ابراہیم: 27]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9113
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 233، حدیث 9145