المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9007
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ قَيْسِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ: لِلَّذِينَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ مَا لَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَإِنَّهُ لَفِي الْقُرْآنِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِي لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: ١٧] "ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تورات میں لکھا ہوا ہے: جو لوگ اپنے پہلو بستروں سے الگ رکھتے ہیں ان کے لیے وہ کچھ ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا۔ اور یہی بات قرآن میں بھی ہے: ”پس کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے“ [سورۃ السجدہ: 17]۔“