حدیث نمبر: 8853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: فَذَكَرُوا رَجُلًا، فَذَكَرُوا مِنْ خُلقِهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَا لَهُ مَنْ يَأْخُذُ عَلَى يَدَيْهِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ قُطِعَ رَأْسُهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لَهُ رَأْسًا؟ أَوْ قُطِعَتْ يَدَاهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لَهُ يَدًا؟ أَوْ قُطِعَتْ رِجْلُهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لَهُ رِجْلًا؟» فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ النُّطْفَةَ إِذَا وَقَعَتْ فِي الْمَرْأَةِ مَكَثَتْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ انْحَدَرَتْ دَمًا، ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ الْمَلَكَ، فَقَالَ: اكْتُبْ أَجَلَهُ، وَعَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَثَرَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ "
ترجمہ

عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق کا ذکر کیا، تو لوگوں نے کہا: کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر اس کا سر کاٹ دیا جائے تو کیا تم اس کے لیے سر بنا سکتے ہو؟ یا اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے جائیں تو کیا تم اسے ہاتھ بنا سکتے ہو؟ یا اس کا پاؤں کاٹ دیا جائے تو کیا تم اسے پاؤں بنا سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک جب نطفہ عورت میں پڑتا ہے تو چالیس دن ٹھہرتا ہے، پھر خون کی صورت میں اترتا ہے، پھر علقہ بنتا ہے، پھر اسی طرح مضغہ بنتا ہے، پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور فرماتا ہے: اس کی موت، اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کا اثر لکھ دو، اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، سو تم اس کے اخلاق کو ہرگز نہیں بدل سکتے جب تک اس کی جسمانی ساخت نہ بدل دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8853
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 178، حدیث 8885