حدیث نمبر: 8852
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَ الْقَوْمُ رَجُلًا فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ؟» قَالُوا: لَا: قَالَ: «فَيَدَهُ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَرِجْلَهُ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ، إِنَّ النُّطْفَةَ لَتَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تَنْحَدِرُ دَمًا، ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَكْتُبُ رِزْقَهُ، وَخُلُقَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ»
ترجمہ

عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق کا ذکر کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم اس کا سر کاٹ دو تو کیا تم اسے دوبارہ لگا سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”تو اس کا ہاتھ؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”تو اس کا پاؤں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”تو تم اس کے اخلاق کو ہرگز نہیں بدل سکتے جب تک اس کی جسمانی ساخت نہ بدل دو۔ بے شک نطفہ رحم میں چالیس رات ٹھہرتا ہے، پھر وہ خون کی صورت میں اترتا ہے، پھر وہ جما ہوا خون (علقہ) بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) بن جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس کا رزق، اس کے اخلاق اور بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8852
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 178، حدیث 8884