المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِكْرَزٍ أَوْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِكْرَزٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " إِنَّ رَبُّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ عِنْدَهُ لَيْلٌ، وَلَا نَهَارٌ، نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ نُورِ وَجْهِهِ، وَإِنَّ مِقْدَارَ كُلِّ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِكُمْ عِنْدَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَاعَةً، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ أَعْمَالُكُمْ بِالْأَمْسِ أَوَّلَ النَّهَارِ الْيَوْمَ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ فَيَطَّلِعُ فِيهَا عَلَى مَا يَكْرَهُ فَيُغْضِبُهُ ذَلِكَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَعْلَمُ غَضَبَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ يَحْمَدُونَهُ يَثْقُلُ عَلَيْهِمْ فَتُسَبِّحُهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَسَوَادِقَاتُ الْعَرْشِ، وَالْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ، وَسَائِرُ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ يَنْفُخُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَرْنِ فَلَا يَبْقَى شَيْءٌ إِلَّا سَمِعَ صَوْتَهُ، فَيُسَبِّحُونَ الرَّحْمَنَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ حَتَّى يَمْتَلِئَ الرَّحْمَنُ رَحْمَةً فَتِلْكَ سِتُّ سَاعَاتٍ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْأَرْحَامِ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي كِتَابِهِ: {هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ} [آل عمران: ٦] {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ} [الشورى: ٥٠] فَتِلْكَ تِسْعُ سَاعَاتٍ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْأَرْزَاقِ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ قَوْلُهُ فِي كِتَابِهِ: {يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ} [الرعد: ٢٦] {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [الرحمن: ٢٩] قَالَ: هَذَا مِنْ شَأْنِكُمْ وَشَأْنِ رَبِّكُمْ "عبداللہ بن مکرز - یا عبیداللہ بن مکرز - بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک تمہارے رب تعالیٰ کے ہاں نہ رات ہے اور نہ دن، آسمانوں اور زمین کی روشنی اس کے چہرے کے نور سے ہے، اور تمہارے دنوں میں سے ہر دن کی مقدار اس کے ہاں بارہ گھنٹے ہے۔ پس کل کے تمہارے اعمال آج کے دن کے شروع میں اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، تو وہ تین گھنٹے ان میں دیکھتا ہے، پس اسے کسی ایسی چیز کی اطلاع ملتی ہے جو اسے ناپسند ہو، تو یہ اسے غصہ دلاتی ہے، اور سب سے پہلے اس کے غصے کو جاننے والے عرش اٹھانے والے فرشتے ہیں، وہ اس کی حمد کرتے ہیں اگرچہ یہ ان پر گراں ہوتا ہے، تو عرش اٹھانے والے، عرش کے آس پاس والے اور مقرب فرشتے، اور باقی سب فرشتے اس کی تسبیح کرتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام صور میں پھونک مارتے ہیں تو کوئی چیز باقی نہیں رہتی مگر وہ اس کی آواز سنتی ہے، پس وہ تین گھنٹے رحمٰن عزوجل کی تسبیح کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ رحمٰن رحمت سے بھر جاتا ہے، سو یہ چھ گھنٹے ہو گئے۔ پھر ارحام (ماؤں کے پیٹ) لائے جاتے ہیں، تو وہ تین گھنٹے ان میں دیکھتا ہے، اور یہی اس کا اپنی کتاب میں یہ فرمان ہے: ”وہی ہے جو تمہاری صورت گری رحموں میں جیسے چاہتا ہے کرتا ہے“ [آل عمران: 6]، ”جسے چاہے بیٹیاں عطا کرے اور جسے چاہے بیٹے عطا کرے، یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں ملا کر دے، اور جسے چاہے بانجھ بنا دے، بے شک وہ علم والا، قدرت والا ہے“ [الشورى: 50]، سو یہ نو گھنٹے ہو گئے۔ پھر رزق لائے جاتے ہیں، تو وہ تین گھنٹے ان میں دیکھتا ہے، جیسا کہ اس کا اپنی کتاب میں فرمان ہے: ”جسے چاہے رزق کشادہ کرے اور جسے چاہے تنگ کر دے“ [الرعد: 26]، ”وہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے“ [الرحمن: 29]۔“ فرمایا: ”یہ تمہاری اور تمہارے رب کی شان میں سے ہے۔“