حدیث نمبر: 8598
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: بَلَغَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْمًا، يَقْعُدُونَ مِنَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ يُسَبِّحُونَ يَقُولُونَ: قُولُوا كَذَا وَقُولُوا كَذَا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنْ قَعَدُوا فَآذِنُونِي» ، فَلَمَّا جَلَسُوا أَتَوْهُ فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ مَعَهُمْ فَجَلَسَ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ، فَأَخَذُوا فِي تَسْبِيحِهِمْ فَحَسَرَ عَبْدُ اللهِ عَنْ رَأْسِهِ الْبُرْنُسَ، وَقَالَ: «أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ» ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظَلْمَاءَ، أَوْ لَقَدْ فَضَلْتُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ: مَا جِئْنَا بِبِدْعَةٍ ظَلْمَاءَ، وَلَا فَضَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَفَرَّقُوا، قَالَ: وَرَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ حَلْقَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَامَ مِنْهُمَا فَقَالَ: «أَيَّتُكُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا؟» قَالَتْ إِحْدَاهُمَا: نَحْنُ، فَقَالَ لِلْأُخْرَى: «قُومَا إِلَيْهَا» فَجَعَلَهُمْ وَاحِدَةً
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مغرب سے عشاء تک بیٹھ کر تسبیح پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: یوں کہو اور یوں کہو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب وہ بیٹھیں تو مجھے بتانا۔“ چنانچہ جب وہ بیٹھے تو لوگ ان کے پاس آئے، تو وہ چل پڑے اور ان کے درمیان جا بیٹھے، ان کے سر پر برنس (ٹوپی نما چادر) تھی۔ وہ لوگ اپنی تسبیح میں مشغول ہو گئے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سر سے برنس ہٹا دیا اور فرمایا: ”میں عبداللہ بن مسعود ہوں۔“ لوگ خاموش ہو گئے، تو فرمایا: ”تم نے تو ایک تاریک بدعت ایجاد کر لی ہے، یا کیا تم علم میں محمد ﷺ کے صحابہ سے آگے نکل گئے ہو؟“ اس پر بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: نہ ہم نے کوئی تاریک بدعت ایجاد کی ہے اور نہ ہم علم میں محمد ﷺ کے صحابہ سے آگے نکلے ہیں۔ عمرو بن عتبہ بن فرقد نے کہا: اے ابن مسعود! میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو انہوں نے انہیں حکم دیا کہ وہ منتشر ہو جائیں۔ راوی کہتے ہیں: اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد میں دو حلقے دیکھے تو ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کون سا حلقہ دوسرے سے پہلے قائم ہوا تھا؟“ ان میں سے ایک نے کہا: ہم، تو دوسرے حلقے سے فرمایا: ”اٹھ کر ان کی طرف چلے جاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے دونوں کو ایک ہی حلقہ بنا دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8598
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 125، حدیث 8630