المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8597
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ بَيَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: ذُكِرَ لِابْنِ مَسْعُودٍ قَاصٌّ يَجْلِسُ بِاللَّيْلِ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ: قُولُوا كَذَا، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَخْبَرُونِي» ، قَالَ: فَأَخْبَرُوهُ، فَجَاءَ عَبْدُ اللهِ مُتَقَنِّعًا، فَقَالَ: «مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، تَعْلَمُونَ أَنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، أَوْ إِنَّكُمْ لَمُتَعَلِّقُونَ بِذَنَبِ ضَلَالَةٍ»ترجمہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک واعظ کا ذکر کیا گیا جو رات کو بیٹھتا اور لوگوں سے کہتا: یوں کہو، تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم اسے دیکھو تو مجھے بتانا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے آ کر بتایا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنا چہرہ ڈھانپے ہوئے آئے اور فرمایا: ”جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے، اور جو نہیں پہچانتا تو میں عبداللہ بن مسعود ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ تم محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ یا تم گمراہی کی دم سے چمٹے ہوئے ہو۔“