المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8596
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: جَاءَ الْمُسَيِّبُ بْنُ نَجَبَةَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمًا بِالْمَسْجِدِ يَقُولُونَ: مَنْ سَبَّحَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: قُمْ يَا عَلْقَمَةُ فَلَمَّا رَآهُمْ، قَالَ: يَا عَلْقَمَةُ اشْغَلْ عَنِّي أَبْصَارَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا سَمِعَهُمْ وَمَا يَقُولُونَ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَمُتَمَسِّكُونَ بِذَنَبِ ضَلَالَةٍ، أَوَ إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
(راوی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتایا:) میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو چھوڑا ہے جو کہہ رہے ہیں: جس نے اتنی اتنی بار تسبیح پڑھی اسے اتنا اتنا ثواب ملے گا۔ انہوں نے فرمایا: اے علقمہ! اٹھو۔ جب انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو فرمایا: اے علقمہ! لوگوں کی نظریں مجھ سے ہٹائے رکھو۔ پھر جب انہوں نے ان کی باتیں سنیں تو فرمایا: ”تم گمراہی کی دم سے چمٹے ہوئے ہو، یا کیا تم محمد ﷺ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟“