❮
❯
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَتْ: حَيْثُ قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ، جَاءَ إِلَى أَبِي فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، قَالَ: أَلَا تَخْرُجُ فَتُعِينَنِي عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: بَلَى إِنْ شِئْتَ، يَا جَارِيَةُ نَاوِلِينِي السَّيْفَ، فَنَاوَلَتْهُ السَّيْفَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ اسْتَلَّهُ، قَالَ: «إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي إِذَا كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ قَبِيلَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَنِ اتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ» فَاسْتَلَّ بَعْضَهُ وَهُوَ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ بِهَذَا، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكَ
ترجمہ

عدیسہ بنت اُہبان بن صیفی رحمہا اللہ کہتی ہیں: جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بصرہ تشریف لائے تو وہ میرے والد (اُہبان) کے پاس آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نکل کر ان لوگوں کے خلاف میری مدد نہیں کرو گے؟ میرے والد نے کہا: کیوں نہیں، اگر تم چاہو۔ اے باندی! مجھے تلوار دو۔ تو باندی نے انہیں تلوار دی، تو انہوں نے اسے اپنی گود میں رکھا، پھر اسے میان سے نکالا اور کہا: ”میرے قریبی دوست اور تمہارے چچا زاد ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ جب مسلمانوں کے دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہو تو میں لکڑی کی تلوار اختیار کروں۔“ پھر انہوں نے اسے تھوڑا سا کھینچا جبکہ وہ ان کی گود میں تھی، اور کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ اسی کے ساتھ نکلوں گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 859
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 294، حدیث 863