المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8544
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ رَخَّصَ فِي الصَّرْفِ، وَفِي الرَّجُلِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَيَتَزَوَّجُ بِأُمِّهَا، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَكَأَنَّهُ لَقِيَ عُمَرَ فَرَجَعَ، فَأَتَى الصَّيَارِفَةَ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ»ترجمہ
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پہلے صرف (کرنسی کے تبادلے میں کمی بیشی) میں رخصت دی تھی، اور اس مسئلے میں بھی کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور رخصتی سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو وہ اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے، پھر وہ مدینہ آئے تو گویا انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور (اپنی رائے سے) رجوع کر لیا، پھر وہ صرافوں کے پاس گئے اور انہیں اس سے منع کر دیا۔