المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يُرَخِّصُ فِي الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتَى عُمَرَ وَعَلِيًّا، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا رَجَعَ رَأَيْتُهُ يَطُوفُ فِي الصَّيَارِفَةِ وَيَقُولُ: «وَيْلَكُمْ يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَشْتَرُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ»ترجمہ
… اور ایک دینار دو دیناروں کے بدلے (بیچنے کی اجازت دی تھی)، پھر وہ مدینہ واپس آئے اور سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ کے پاس گئے تو انہوں نے انہیں اس سے منع کیا، تو جب وہ واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ وہ صرافوں کے درمیان گھوم گھوم کر کہہ رہے تھے: ”تم پر افسوس، اے لوگو! سود مت کھاؤ، اور ایک درہم دو درہموں کے بدلے مت خریدو، اور نہ ایک دینار دو دیناروں کے بدلے۔“