حدیث نمبر: 8492
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ مُرَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَإِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ، إِنَّ بَعِيدًا مَا لَيْسَ آتِيًا، أَلَا عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صَدِّيقًا، وَيَثْبُتَ الْبِرُّ فِي قَلْبِهِ، وَلَا يَكُونَ الْفُجُورُ فِي قَلْبِهِ مَوْضِعَ إِبْرَةٍ لِيَسْتَقِرَّ فِيهَا، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا وَيَسْتَقِرَّ الْفُجُورُ فِي قَلْبِهِ فَلَا يَكُنْ فِي قَلْبِهِ مَوْضِعُ إِبْرَةٍ لِيَسْتَقِرَّ فِيهَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے، اور سب سے بری چیز نئی ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور تم سے جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے، بے شک دور وہ ہے جو آنے والی نہیں۔ خبردار! سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے، اور نیکی اس کے دل میں پختہ ہو جاتی ہے، اور بدکاری اس کے دل میں سوئی برابر جگہ بھی نہیں پاتی کہ وہاں ٹھہر سکے۔ خبردار! جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں بہت جھوٹا لکھا جاتا ہے، اور بدکاری اس کے دل میں ٹھہر جاتی ہے، تو اس کے دل میں سوئی برابر جگہ بھی نہ رہے کہ وہ وہاں ٹھہر سکے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8492
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 99، حدیث 8524