المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ بُرْقَانَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «كُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، أَلَا إِنَّ الْبَعِيدَ مَا لَيْسَ بِآتٍ، لَا يَعْجَلُ اللهُ لِعَجَلَةِ أَحَدٍ وَلَا يَخِفُّ لِأَمْرِ النَّاسِ، مَا شَاءَ اللهُ لَا مَا شَاءُ النَّاسُ، يُرِيدُ اللهُ أَمْرًا وَيُرِيدُ النَّاسُ أَمْرًا مَا شَاءَ اللهُ كَانَ وَلَوْ كَرِهَ النَّاسُ، لَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدَ اللهُ وَلَا مُبَعِّدَ لِمَا قَرَّبَ اللهُ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٌ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ غَيْرُ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: " وَخَيْرُ مَا أُلْقِيَ فِي الْقَلْبِ الْيَقِينُ، وَخَيْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ، وَخَيْرُ الْعِلْمِ مَا نَفَعَ، وَخَيْرُ الْهَدْيِ مَا اتُّبِعَ، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى، وَإِنَّمَا يَصِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ فَلَا تَمَلُّوا النَّاسَ، وَلَا تَسْأَمُوهُمْ، وَإِنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ شَيْطَانًا وَإِقْبَالًا، أَلَا وَإِنَّ لَهَا سَآمَةً وَإِدْبَارًا، أَلَا وَشَرُّ الرَّوَايَا الْكَذِبُ، أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَقُودُ إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَقُودُ إِلَى النَّارِ، أَلَا وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَإِنَّ الصِّدْقَ يَقُودُ إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَقُودُ إِلَى الْجَنَّةِ وَاعْتَبِرُوا ذَلِكَ، إِنَّهُمَا إِلْفَانِ الْتَقَيَا يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ، حَتَّى يُكْتَبَ صَدِّيقًا، وَلَا يَزَالُ الْكَاذِبُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا، أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ فِي جِدٍّ، وَلَا هَزْلٍ، وَلَا أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزَ لَهُ، وَلَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ طَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ، وَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَابْتَدَعُوا فِي دِينِهِمْ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا مَحَالَةَ سَائِلِيهِمْ فَمَا وَافَقَ كِتَابَكُمْ فَخُذُوا وَمَا خَالَفَهُ فَاهْدُوا عَنْهُ وَاسْكُتُوا "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر آنے والی چیز قریب ہے، سن لو! دور تو وہ ہے جو آنے والی نہیں۔ اللہ کسی کی جلدی کی وجہ سے جلدی نہیں کرتا، اور نہ لوگوں کے معاملے کی وجہ سے سبکی دکھاتا ہے۔ جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) نہ کہ جو لوگ چاہیں، اللہ ایک بات چاہتا ہے اور لوگ ایک بات چاہتے ہیں، جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے چاہے لوگ ناپسند کریں۔ جسے اللہ نے دور کر دیا اسے کوئی قریب نہیں کر سکتا، اور جسے اللہ نے قریب کر دیا اسے کوئی دور نہیں کر سکتا، اور کوئی چیز اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہوتی۔ سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے، اور سب سے بری چیز نئی ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور ہر نئی ایجاد کردہ بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
معمر کہتے ہیں: جعفر بن برقان کے علاوہ دوسرے راوی نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی بیان کیا: ”دل میں ڈالی جانے والی سب سے بہتر چیز یقین ہے، اور سب سے بہتر مالداری دل کی بے نیازی ہے، اور سب سے بہتر علم وہ ہے جو نفع دے، اور سب سے بہتر ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جائے، اور جو تھوڑا ہو اور کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ اور تم میں سے ہر ایک نے بالآخر چار ہاتھ (کی قبر) کی جگہ جانا ہے، تو لوگوں کو اکتاہٹ میں نہ ڈالو اور نہ ان سے تھکو۔ اور ہر نفس کے لیے ایک شیطان اور ایک رغبت ہے - خبردار! اور اس کے لیے ایک اکتاہٹ اور روگردانی بھی ہے۔ خبردار! بدترین روایتیں جھوٹ ہیں، خبردار! جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ خبردار! سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور اس سے عبرت حاصل کرو: یہ دو ساتھی ہیں جو ملتے ہیں، سچے کے بارے میں کہا جاتا ہے: ’اس نے سچ کہا‘ یہاں تک کہ وہ صدیق لکھا جاتا ہے، اور جھوٹا مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بہت جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ خبردار! جھوٹ نہ سنجیدگی میں مناسب ہے نہ مذاق میں، اور نہ یہ کہ تم میں سے کوئی اپنے بچے سے کوئی وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے۔ اور اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھو، کیونکہ ان پر لمبا عرصہ گزر چکا ہے، ان کے دل سخت ہو گئے ہیں، اور انہوں نے اپنے دین میں نئی باتیں ایجاد کر لی ہیں، پس اگر تمہیں ناچار ان سے پوچھنا ہی پڑے تو جو تمہاری کتاب کے موافق ہو اسے لے لو، اور جو اس کے خلاف ہو اس سے بچو اور خاموش رہو۔“