حدیث نمبر: 8461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: أَتَى عَبْدُ اللهِ أَبَا مُوسَى فَتَحَدَّثَ عِنْدَهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا أُقِيمَتْ فَتَأَخَّرَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَتَقَدَّمَ صَاحِبُ الْبَيْتِ» فَأَبَى أَبُو مُوسَى حَتَّى تَقَدَّمَ مَوْلًى لِأَحَدِهِمَا
ترجمہ

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے ہاں باتیں کرنے لگے، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا، تو جب اقامت کہی گئی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ سنت یہ ہے کہ گھر کا مالک آگے بڑھے (امامت کرے)۔“ لیکن ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، یہاں تک کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا غلام آگے بڑھ کر امامت کے لیے کھڑا ہوا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8461
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 89، حدیث 8493