حدیث نمبر: 8460
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَدِيثَ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ الْآخَرُ: فَأَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: فَإِنَّ صَاحِبَ هَذَا الدَّارِ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: «لَئِنْ فَعَلَ إِنْ كَانَ لَيَدْخُلُ إِذَا حُجِبْنَا، وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا» قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ: «عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَعْنِي»
ترجمہ

…کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فلاں فلاں حدیث بیان کرتے سنا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ دوسرے نے اس سے کہا: تو کیا آپ نے خود سنا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: اس گھر والے کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ سنا ہے۔ تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو وہ اس وقت بھی (نبی کریم ﷺ کے پاس) داخل ہو جاتے تھے جب ہم پردے میں رکھے جاتے تھے، اور اس وقت بھی حاضر ہوتے تھے جب ہم غائب ہوتے تھے۔“ سلیمان اعمش کہتے ہیں: ”اس سے مراد عبداللہ بن مسعود ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8460
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 89، حدیث 8492