❮
❯
حدیث نمبر: 8438
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُقَدَّمِيِّ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ صَرِيعٌ وَعَلَيْهِ بَيْضَتُهُ وَمَعَهُ سَيْفٌ جَيِّدٌ، وَمَعِي سَيْفٌ رَدِيءٌ، فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَهُ بِسَيْفِي وَأَذْكُرُ نَقْفًا كَانَ يَنْقُفُ رَأْسِي بِمَكَّةَ حَتَّى ضَعُفَتْ يَدُهُ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: عَلَى مَنْ كَانَتِ الدَّبْرَةُ لَنَا أَوْ عَلَيْنَا، أَلَسْتَ رُوَيْعِينَا بِمَكَّةَ؟ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، فَقَالَ: «اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟» فَاسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ مَعِي إِلَيْهِمْ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ابوجہل کے پاس پہنچا جبکہ وہ زخمی حالت میں گرا پڑا تھا، اس کے سر پر خود تھی اور اس کے پاس ایک عمدہ تلوار تھی، جبکہ میرے پاس ایک بری (خستہ) تلوار تھی۔ میں نے اپنی تلوار سے اس کے سر پر ضربیں لگانی شروع کیں اور یاد کرتا رہا کہ وہ مکہ میں میرے سر پر کس طرح ضربیں لگایا کرتا تھا، یہاں تک کہ اس کا ہاتھ کمزور پڑ گیا اور میں نے اس کی تلوار لے لی۔ تو اس نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: گردش (شکست) کس پر پڑی، ہمارے حق میں رہی یا ہمارے خلاف؟ کیا تم مکہ میں ہمارے معمولی چرواہے نہیں تھے؟ تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ”میں نے ابوجہل کو قتل کر دیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اور مجھے تین بار قسم دلائی، پھر میرے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے اور ان کے خلاف بددعا کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8438
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 83، حدیث 8470