حدیث نمبر: 8437
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: «اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَأَنْتَ قَتَلْتَهُ؟» قُلْتُ: اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَأَنَا قَتَلْتُهُ، فَاسْتَخَفَّهُ الْفَرَحُ، فَقَالَ: «مُرَّ أَرِنِيهِ» فَانْطَلَقْتُ بِهِ حَتَّى وَقَفْتُ بِهِ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ، هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، جُرُّوهُ إِلَى الْقَلِيبِ» قَالَ: وَقَدْ كُنْتُ ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي فَلَمْ يَحُكَّ فِيهِ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدر کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ”میں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیا واقعی تم نے اسے قتل کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے ہی اسے قتل کیا ہے۔“ خوشی سے میری حالت بدل گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ مجھے دکھاؤ۔“ چنانچہ میں آپ ﷺ کو لے کر گیا یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس کھڑا ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ذلیل کیا، یہ اس امت کا فرعون ہے، اسے کھینچ کر کنویں میں ڈال دو۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے اپنی تلوار سے مارا تھا مگر وہ اس میں کچھ نہ کر سکی، تو میں نے اس کی تلوار پکڑ کر اسی سے اسے قتل کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی تلوار مجھے بطور نفل عطا فرمائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8437
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 82، حدیث 8469