المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا هَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مَرَرْتُ، فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ صَرِيعٌ قَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللهِ، يَا أَبَا جَهْلٍ، قَدْ أَخْزَى اللهُ الْآخَرَ، قَالَ: وَلَا أَهَابُهُ، عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: أَبْعِدْ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرِ طَائِلٍ، فَلَمْ يُغْنِ عَنِّي شَيْئًا حَتَّى سَقَطَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ حَتَّى بَرُدَ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أشْتَدُّ لِأَنْ آتِي أَسْرَعَ خَلْقِ اللهِ شَدًّا، حَتَّى جِئْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ قَدْ قَتَلَ اللهُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: «اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟» فَقُلْتُ: اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ قَتَلْتُهُ، قَالَ: «كَيْفَ؟» فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ كَيْفَ كَانَ الْحَدِيثُ وَكَيْفَ وَجَدْتُهُ، قَالَ: «اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ قَتَلْتُهُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ» ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى آتَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ»…میں نے اسے پکڑ کر اتنا مارا کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا (مر گیا)۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دوڑتا ہوا آیا تاکہ اللہ کی مخلوق میں سب سے تیز دوڑنے والے کی طرح پہنچوں، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے ہی اسے قتل کیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیسے؟“ تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ کیا واقعہ پیش آیا اور میں نے اسے کس حال میں پایا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے ہی اسے قتل کیا ہے۔“ تو آپ ﷺ نے تکبیر کہی، پھر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔“ پھر آپ ﷺ چل کر اس کے پاس تشریف لے گئے، پھر فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون ہے۔“