حدیث نمبر: 8287
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعُمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - اسْمُهَا خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ - عَلَى عَائِشَةَ وَهِي بَاذَّةُ الْهَيْئَةِ فَسَأَلَتْهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ عَائِشَةُ، فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا، أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ، فَوَاللهِ إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا»
ترجمہ

…(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) اس سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرا شوہر رات کو (نماز میں) کھڑا رہتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی۔ نبی کریم ﷺ عثمان (بن مظعون) رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”اے عثمان! ہم پر رہبانیت (ترکِ دنیا کی سختی) فرض نہیں کی گئی، کیا تمہارے لیے میری زندگی میں نمونہ نہیں؟ اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8287
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 38، حدیث 8319