المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نسبة عثمان بن مظعون " عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح بن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب، وكان من مهاجرة الحبشة، وقدم مكة قبل الهجرة فهاجر إلى المدينة، وشهد بدرا " باب: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نسب: عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصیص بن کعب، کنیت ابوسائب، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھے، ہجرت سے پہلے مکہ آئے پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی، اور بدر میں شریک ہوئے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعُمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - اسْمُهَا خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ - عَلَى عَائِشَةَ وَهِي بَاذَّةُ الْهَيْئَةِ فَسَأَلَتْهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ عَائِشَةُ، فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا، أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ، فَوَاللهِ إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی — جن کا نام خولہ بنتِ حکیم تھا — سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں جبکہ وہ پراگندہ حالت میں تھیں، تو انہوں نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرا شوہر رات کو (نماز میں) کھڑا رہتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی۔ نبی کریم ﷺ عثمان (بن مظعون) رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”اے عثمان! ہم پر رہبانیت (ترکِ دنیا کی سختی) فرض نہیں کی گئی، کیا تمہارے لیے میری زندگی میں نمونہ نہیں؟ اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا ہوں۔“