حدیث نمبر: 8278
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَلَّمَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ - وَعِنْدَهُ رَهْطٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي قَصَّرَ فِي تَحِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ لِمُعَاوِيَةَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ عَابُوا عَلَيَّ شَيْئًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، أَمَا إِنِّي قَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَحِمَهُمُ اللهُ» ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنِّي لَإِخَالُهُ قَدْ كَانَ بَعْضُ الَّذِي يَقُولُ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ حِينَ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا: وَاللهِ لَنَعْرِفَنَّ دِينِنَا وَلَا نُقَصِّرُ تَحِيَّةَ خَلِيفَتِنَا، وَإِنِّي لَإِخَالُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ: أَمِيرٌ
ترجمہ

…تو انہوں نے (سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے) کہا: السلام علیک ایہا الامیر (اے امیر! آپ پر سلامتی ہو)، اور ان کے پاس اہل شام کی ایک جماعت موجود تھی، تو انہوں نے کہا: یہ کون منافق ہے جس نے امیر المومنین کو سلام کرنے میں کوتاہی کی؟ اس پر سیدنا عثمان (بن حنیف) رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ان لوگوں نے مجھ پر ایک ایسی بات کا اعتراض کیا ہے جسے آپ خوب جانتے ہیں، میں نے اسی (طرز) سے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کو سلام کیا تھا۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے گمان ہے کہ ان کی بات میں کچھ سچائی ہے، لیکن اہل شام نے جب فتنہ برپا ہوا تو کہا: اللہ کی قسم، ہم اپنے دین کو خوب پہچانیں گے اور اپنے خلیفہ کو سلام کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے، اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم اہل مدینہ صدقہ وصول کرنے والے عامل کو بھی امیر کہہ دیتے ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8278
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 29، حدیث 8309