المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن حنيف الأنصاري، من أخباره باب: سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ، ان کے حالات کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، قَالَ: بَيْنَا عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ يُكَلِّمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ - وَكَانَ عَامِلًا لَهُ - فَأَغْضَبَهُ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَبْضَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَرَجَمَهُ بِهَا، فَأَصَابَ حَجَرٌ مِنْهَا جَبِينَهُ فَشَجَّهُ، فَسَالَ الدَّمُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَكَأَنَّهُ نَدِمَ، فَقَالَ: امْسَحِ الدَّمَ عَنْ لِحْيَتِكَ، فَقَالَ: «لَا يَهُولَنَّكَ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللهِ لَمَا انْتَهَكْتُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ أَشَدُّ مِمَّا انْتَهَكْتَ مِنِّي» ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَ عُمَرَ ذَلِكَ مِنْهُ وَزَادَهُ خَيْرًانوفل بن مساحق رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عامل (گورنر) تھے، ان سے گفتگو کر رہے تھے کہ انہوں نے انہیں غصہ دلا دیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بطحاء کی زمین سے ایک مٹھی (کنکر) اٹھا کر انہیں (سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو) دے ماریں، تو اس میں سے ایک پتھر ان کی پیشانی پر لگا اور انہیں زخمی کر دیا، خون ان کی داڑھی پر بہنے لگا۔ گویا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (اس پر) ندامت ہوئی تو فرمایا: اپنی داڑھی سے خون صاف کرو۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ آپ کو پریشان نہ کرے، اللہ کی قسم، ان لوگوں کے ساتھ جن پر آپ نے مجھے والی بنایا ہے، میں نے جو زیادتی کی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو آپ نے مجھ پر کی ہے۔ راوی کہتے ہیں: گویا یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے بہت پسند آئی اور انہوں نے ان کے ساتھ مزید بھلائی کی۔