المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طهفة بن قيس الغفاري، ويقال طخفة، كان ينزل المدينة باب: سیدنا طہفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے طخفہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 8199
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أبيه قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى بَطْنِي، فَحَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: «هَذِهِ نَوْمَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ» فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
…ابوسلمہ، یعیش بن طہفہ غفاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مسجد میں میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل سویا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلایا، اور فرمایا: ”یہ ایسی نیند ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے۔“ تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔