المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طهفة بن قيس الغفاري، ويقال طخفة، كان ينزل المدينة باب: سیدنا طہفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے طخفہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 8200
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ الصَّيْرَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أبيه قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ يَقُولُ: «هَكَذَا فَإِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ» فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
…میں مسجد میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ ایک آدمی مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور فرمانے لگا: ”اس طرح، کیونکہ یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ عزوجل ناپسند کرتا ہے۔“ میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔