المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طهفة بن قيس الغفاري، ويقال طخفة، كان ينزل المدينة باب: سیدنا طہفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے طخفہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ أَوْ طِخْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْعَامَّةِ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُ: «فُلَانُ اذْهَبْ بِفُلَانَ، فَأَضِفْهُ» فَلَا يَزَالُ حَتَّى بَقِيتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَقَالَ لَنَا: «انْطَلِقُوا إِلَى الْبَيْتِ» . فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَدَخَلْنَا بَيْتَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا» . فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْتَا، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا» . فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ، كَأَنَّهَا قَطَاةٌ فَأَكَلُوا، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا» . فَجَاءَتْ بِقَعْبٍ فِيهِ ضِياحٌ، فَأَكَلُوا، ثُمَّ قَالَ لَنَا: إِنْ شِئْتُمْ، فَبِيتُوا هَهُنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَانْطَلِقُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقُلْنَا: لَا بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَكَرِهْنَا أَنْ نشُقَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنِمْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَحَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: «انْحَرِفْ هَكَذَا، فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ تَعَالَى» فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ…رسول اللہ ﷺ عام لوگوں کی طرف دیکھتے اور فرماتے: ”فلاں، فلاں کو لے جاؤ اور اسے مہمان بناؤ۔“ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہ گیا، آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”گھر کی طرف چلو۔“ چنانچہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ گئے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، اور یہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ، ہمیں کھانا کھلاؤ۔“ تو وہ کچھ ہری سبزی لے کر آئیں، ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ، ہمیں کھانا کھلاؤ۔“ تو وہ کھجور کی مٹھائی جیسی کوئی چیز لے کر آئیں، سب نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ، ہمیں پلاؤ۔“ تو وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ ملا ہوا پانی تھا، سب نے پیا، پھر آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”اگر چاہو تو یہیں رات گزارو، اور اگر چاہو تو مسجد چلے جاؤ۔“ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، بلکہ ہم مسجد چلے جاتے ہیں، اور ہمیں یہ پسند نہ آیا کہ رسول اللہ ﷺ پر بوجھ ڈالیں، چنانچہ میں مسجد میں سو گیا، پس میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اپنے پاؤں سے مجھے ہلایا، اور فرمایا: ”اس طرح کروٹ بدل لو، یہ ایسی نیند ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔“ میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔