المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأسود بن سريع المجاشعي باب: سیدنا اسود بن سریع مجاشعی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا شَاعِرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أُنْشِدُكُ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْمَحَامِدَ» فَمَا اسْتَزَادَنِيترجمہ
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک شاعر تھا، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کو وہ حمد نہ سناؤں جس سے میں نے اپنے رب عزوجل کی حمد کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک تمہارا رب حمد کو پسند کرتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے مزید سنانے کا تقاضا نہ کیا۔