حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، قَالَ: " كُنْتُ أُنْشِدُهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَعْرِفُ أَصْحَابَهُ حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ، أَصْلَعُ، فَقِيلَ لِي: اسْكُتِ، اسْكُتْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَاهُ، مَنْ هَذَا الَّذِي أَسْكُتُ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: إِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَعَرَفْتُ وَاللهِ بَعْدُ أَنَّهُ كَانَ يَهُونُ عَلَيْهِ لَوْ سَمِعَنِي أَنْ لَا يُكَلِّمَنِي حَتَّى يَأْخُذَ بِرِجْلِي فَيَسْحَبَنِي إِلَى الْبَقِيعِ "
ترجمہ

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کو اشعار سناتا تھا اور ان کے صحابہ کو نہیں پہچانتا تھا، یہاں تک کہ ایک چوڑے کندھوں والا، گنجا شخص آیا، تو مجھ سے کہا گیا: خاموش ہو جاؤ، خاموش ہو جاؤ۔ میں نے کہا: ہائے میری بربادی! یہ کون ہے جس کے لیے میں نبی کریم ﷺ کے پاس خاموش ہو جاؤں؟ کہا گیا: یہ سیدنا عمر بن خطاب ہیں۔ اللہ کی قسم! مجھے بعد میں پتا چلا کہ اگر انہوں نے مجھے سن لیا ہوتا تو ان کے لیے یہ آسان ہوتا کہ وہ مجھ سے بات کیے بغیر میری ٹانگ پکڑ کر مجھے بقیع تک گھسیٹ لے جاتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 815
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 282، حدیث 819