المعجم الكبير للطبراني
باب الضاد— حرف ضاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ضمام بن ثعلبة الأزدي باب: سیدنا ضمام بن ثعلبہ ازدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَزِدِ شَنُوءَةَ يُقَالُ لَهُ ضِمَامٌ كَانَ بِالْيَمَنِ، وَكَانَ يُعَالِجُ مِنَ الْأَرْوَاحِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ، فَسَمِعَهُمْ يَقُولُونَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاحِرٌ وَكَاهِنٌ وَمَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَشْفِي عَلَى يَدَيَّ، وَإِنِّي أُعَالِجُ مِنْ هَذِهِ الْأَرْوَاحِ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَالشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَلَقَدْ بَلَغَ قَامُوسَ الْبَحْرِ، مُدَّ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَمَدَّ يَدَهُ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَعَلَى قَوْمِي فَبَايَعَهُ عَلَى قَوْمِهِ…اس نے (اپنے دل میں) کہا: اگر میں اس آدمی کے پاس جاؤں تو شاید اللہ میرے ہاتھوں اسے شفا دے دے، تو وہ ان سے ملا اور کہا: اے محمد، اللہ عزوجل میرے ہاتھوں شفا دیتا ہے، اور میں ان روحوں کا علاج کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اس نے کہا: یہ دوبارہ مجھے سنائیں، تو آپ ﷺ نے تین بار اسے دہرایا، تو اس نے کہا: میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں کی باتیں سنی ہیں، مگر میں نے ان کلمات جیسی کوئی بات نہیں سنی، اور یہ بات سمندر کی گہرائی تک پہنچ چکی ہے، اپنا ہاتھ بڑھائیں میں آپ سے اسلام پر بیعت کروں۔ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس نے اسلام پر بیعت کر لی، اور اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کر لی۔