حدیث نمبر: 8117
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَائِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، وَيُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا أَرْقِيكَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . فَقَالَ ضِمَامٌ: لَقَدْ قَرَأْتُ الْكُتُبَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَالزَّبُورَ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ، أَعِدْهُنَّ عَلَيَّ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَعِدْهُنَّ عَلَيَّ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ ذُكِرَ أَنَّهُ أَسْلَمَ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد، کیا میں آپ پر دم نہ کروں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں، اور اپنی جانوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ ضمام نے کہا: میں نے کتابیں، تورات، انجیل اور زبور پڑھی ہیں، مگر میں نے اس کلام جیسی کوئی بات نہیں سنی، یہ دوبارہ مجھے سنائیں، تو آپ ﷺ نے دہرایا، پھر انہوں نے کہا: دوبارہ سنائیں، تو آپ ﷺ نے پھر دہرایا، پھر بیان کیا گیا کہ وہ مسلمان ہو گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الضاد / حدیث: 8117
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 304، حدیث 8148