المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ هُرْمُزَ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ، وَأَنَا طَاوٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَأْكُلُونَ دَمًا، فَقُلْتُ: " إِنَّمَا جِئْتُ أَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا، فَوَضَعْتُ رَأْسِي، فَقُمْتُ وَأَنَا مَغْلُوبٌ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَقَالَ: خُذْ هَذَا وَاشْرَبْ، ثُمَّ كَظَّنِي بَطْنِي فَشَبِعْتُ، ثُمَّ رَوَيْتُ فَسَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ: أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ سَرَاةِ قَوْمِكُمْ قَلَّمَ تَنْجِعُوهُ بِالْمَذِيقَةِ، فَأَتَوْنِي بِمَذِيقَتِهِمْ فَقُلْتُ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، إِنَّ اللهَ أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، فَأَرَيْتُهُمْ بَطْنِي، فَأَسْلَمُوا عَنْ آخِرِهِمْ "سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے میری قوم کی طرف بھیجا، میں بھوک کی حالت میں ان کے پاس پہنچا، تو دیکھا کہ وہ خون کھا رہے ہیں، میں نے کہا: میں تو تمہیں اس سے روکنے کے لیے آیا ہوں، پھر میں نے (سونے کے لیے) اپنا سر رکھ دیا، اور کمزوری کی حالت میں کھڑا ہو گیا، اتنے میں خواب میں میرے پاس کوئی آیا جس کے پاس ایک برتن تھا جس میں مشروب تھا، اس نے کہا: یہ لو اور پیو، پھر میرا پیٹ بھر گیا اور میں سیر ہو گیا، پھر مجھے سیرابی حاصل ہو گئی۔ پھر میں نے انہیں کہتے سنا: تمہارے پاس تمہاری قوم کے سرداروں میں سے ایک آدمی آیا اور تم نے اسے (پانی ملے) دودھ سے بھی تواضع نہ کی۔ تو وہ اپنا پتلا دودھ میرے پاس لائے، میں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، اللہ نے مجھے کھلا اور پلا دیا ہے، اور میں نے انہیں اپنا پیٹ دکھایا، تو وہ سب کے سب اسلام لے آئے۔