حدیث نمبر: 8043
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا بَشِيرُ بْنُ سُرَيْجٍ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي أَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَرَضَ عَلَيْهِمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ فَأَتَيْتُهُمْ، وَقَدْ سَقَوْا إِبِلَهُمْ وَاحْتَلَبُوهَا وَشَرِبُوا، فَلَمَّا رَأَوْنِي قَالُوا: مَرْحَبًا بِالصُّدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ، قَالُوا: بَلَغَنَا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، قُلْتُ: «لَا وَلَكِنْ آمَنْتُ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَبَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ أَعْرِضُ عَلَيْكُمِ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ» ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ فَجَاءُوا بِقَصْعَةِ دَمٍ، فَوَضَعُوهَا وَاجْتَمَعُوا عَلَيْهَا يَأْكُلُونَهَا، قَالُوا: هَلُمَّ يَا صُدَيُّ، قُلْتُ: وَيْحَكُمْ، إِنَّمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ مَنْ يُحَرِّمُ هَذَا عَلَيْكُمْ بِمَا أَنْزَلَهُ اللهُ عَلَيْهِ، قَالُوا: وَمَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ} [المائدة: ٣] إِلَى قَوْلِهِ: {وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ} [المائدة: ٣] . فَجَعَلْتُ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَأْبَوْنَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: «وَيْحَكُمِ ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَإِنِّي شَدِيدُ الْعَطَشِ» . قَالَ: وَعَلَيَّ عِمَامَتِي، قَالُوا: لَا، وَلَكِنْ نَدَعُكَ تَمُوتُ عَطَشًا، قَالَ: «فَاعْتَمَمْتُ وَضَرَبْتُ رَأْسِي فِي الْعِمَامَةِ، وَنِمْتُ فِي الرَّمْضَاءِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِقَدَحٍ زُجَاجٍ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَحْسَنَ مِنْهُ، وَفِيهِ شَرَابٌ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَلَذَّ مِنْهُ، فَأَمْكَنَنِي مِنْهَا فَشَرِبْتُهَا، فَحَيْثُ فَرَغْتُ مِنْ شَرَابِي اسْتَيْقَظْتُ، وَلَا وَاللهِ مَا عَطِشْتُ، وَلَا عَرَفْتُ عَطَشًا بَعْدَ تِيكَ الشَّرْبَةِ»
ترجمہ

…اور انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلایا اور ان کا دودھ دوہا اور پیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا: صدی بن عجلان کو خوش آمدید، انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم اس آدمی کی طرف مائل ہو گئے ہو۔ میں نے کہا: ”نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں، اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں اسلام اور اس کے احکام پیش کروں۔“ ابھی ہم اسی حال میں تھے کہ وہ خون کا ایک پیالہ لے آئے، اسے رکھا اور اس پر جمع ہو کر کھانے لگے، کہنے لگے: آؤ اے صدی۔ میں نے کہا: افسوس تم پر، میں تو تمہارے پاس اس ہستی کی طرف سے آیا ہوں جس نے اپنے نازل کردہ حکم سے یہ چیز تم پر حرام کر دی ہے۔ انہوں نے کہا: اس نے کیا کہا؟ میں نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے: ”تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا“ [المائدہ: 3] ”اور یہ بھی کہ تم تیروں کے ذریعے قسمت معلوم کرو (یہ بھی حرام ہے)“ [المائدہ: 3] تک۔ میں انہیں اسلام کی دعوت دیتا رہا مگر وہ انکار کرتے رہے، تو میں نے ان سے کہا: ”افسوس تم پر، مجھے کچھ پانی لا دو، مجھے سخت پیاس لگی ہے۔“ کہتے ہیں: میری پگڑی میرے سر پر تھی، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تمہیں پیاس سے مرنے دیں گے۔ کہتے ہیں: ”پس میں نے پگڑی باندھی اور اپنا سر اس میں لپیٹ لیا، اور سخت گرمی میں تپتی ریت پر سو گیا، تو خواب میں میرے پاس کوئی آیا، اس کے پاس ایک شیشے کا پیالہ تھا جس سے زیادہ خوبصورت لوگوں نے کبھی نہ دیکھا تھا، اور اس میں ایک ایسا مشروب تھا جس سے زیادہ لذیذ لوگوں نے کبھی نہ چکھا تھا، اس نے وہ میرے حوالے کر دیا تو میں نے وہ پی لیا، جب میں اپنا مشروب پی چکا تو بیدار ہو گیا، اور اللہ کی قسم، مجھے پیاس نہ لگی، اور اس گھونٹ کے بعد میں نے کبھی پیاس نہ محسوس کی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8043
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 279، حدیث 8074