المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن أبي عبد الملك علي بن يزيد، عن القاسم باب: ابوعبدالرحیم خالد بن ابی یزید کی ابوعبدالملک علی بن یزید کے واسطے سے قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا الصَّدَقَةُ؟ قَالَ: «أَضْعَافٌ مُضَعَّفَةٌ، وَعِنْدَ اللهِ الْمَزِيدُ» ، ثُمَّ قَرَأَ: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً} [البقرة: ٢٤٥]
فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ، أَوْ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ» ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِي، وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ} [البقرة: ٢٧١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! صدقہ کیا ہے؟ فرمایا: ”کئی گنا بڑھایا ہوا اجر، اور اللہ کے ہاں مزید بھی ہے،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا دے“ [سورۃ البقرہ: 245]۔
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا: ”کسی محتاج کو چھپا کر دیا گیا صدقہ، یا کم مال والے کی محنت سے نکلا ہوا صدقہ،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو یہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے“ [سورۃ البقرہ: 271]۔