المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن أبي عبد الملك علي بن يزيد، عن القاسم باب: ابوعبدالرحیم خالد بن ابی یزید کی ابوعبدالملک علی بن یزید کے واسطے سے قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَلَسَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَرَفَعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ: «مَنْ يُبَايِعُنِي؟» ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا ثَوْبَانُ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً، وَأَنَا أُبَايِعُكَ الثَّانِيَةَ، فَعَلَامَ أُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا وَلَكُمِ الْجَنَّةَ» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَنَا بَايَعْتُكَ، وَلَمْ أَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا فَلِيَ الْجَنَّةُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنْ شَاءَ اللهُ» . قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَسْأَلُ شَيْئًا مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَاسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک دن نبی کریم ﷺ اپنے چند صحابہ کے درمیان بیٹھے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”کون مجھ سے بیعت کرے گا؟“ تین بار فرمایا، مگر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی کھڑا نہ ہوا، انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم نے ایک بار آپ سے بیعت کر لی، اب میں دوبارہ بیعت کرتا ہوں، تو یا رسول اللہ! میں کس بات پر بیعت کروں؟ فرمایا: ”اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے، اور تمہارے لیے جنت ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آپ سے بیعت کروں اور لوگوں سے کچھ نہ مانگوں تو کیا مجھے جنت ملے گی؟ فرمایا: ”ہاں، اگر اللہ نے چاہا۔“ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں جب تک دنیا میں رہوں گا کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔