المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن أبي العاتكة، عن علي بن يزيد باب: عثمان بن ابی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَجْلَسَهُمْ عَلَى الْبَابِ، وَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ، فَأَجْلَسَهُمْ فِي الْبَيْتِ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا بَنِي هَاشِمٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاسْعَوْا فِي فَكَاكِ رِقَابِكُمْ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللهِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا»
ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَيَا حَفْصَةُ بِنْتَ عُمَرَ، وَيَا أُمَّ سَلَمَةَ وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، وَيَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاسْعَوْا فِي فَكَاكِ رِقَابِكُمْ، فَإِنِّي لَا أَطْلُبُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي» فَبَكَتْ عَائِشَةُ، وَقَالَتْ: يَا حِبِّي، وَهَلْ يَكُونُ ذَلِكَ يَوْمَ لَا تُغْنِي عَنَّا شَيْئًا؟ قَالَ: " نَعَمْ فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [الأنبياء: ٤٧] الْآيَتَيْنِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ النُّورِ مَنْ شَاءَ اللهُ أَتَمَّ لَهُ نُورَهُ، وَمَنْ شَاءَ أَكَبَّهُ فِي الظُّلُمَاتِ، يَغُمُّهُ فِيهَا، فَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، وَلَا أُغْنِي لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ مَنْ شَاءَ اللهُ سَلَّمَهُ وَأَجَازَهُ، وَمَنْ شَاءَ لِيُكِبَّهُ فِي النَّارِ "
قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيْ حِبِّي، قَدْ عَلِمْنَا الْمَوَازِينَ هِيَ الْكِفَّتَانِ، فَيُوضَعُ فِي هَذِهِ الشَّيْءُ فَيَرْجَحُ أَحَدُهُمَا، وَيَخِفُّ الْأُخْرَى، وَقَدْ عَلِمْنَا مَا النُّورُ، وَمَا الظُّلْمَةُ فَمَا الصِّرَاطُ؟ فَقَالَ: " طَرِيقٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ يَجُوزُ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَهُوَ مِثْلُ حَدِّ الْمُوسَى، وَالْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَخْطِفُوهُمْ بِالْكَلَالِيبِ مِثْلِ شَوْكِ السَّعْدَانِ، وَهُمْ يَقُولُونَ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَاقْتَدِ بِهِمْ هَوَاءً، فَمَنْ شَاءَ اللهُ سَلَّمَهُ، وَمَنْ شَاءَ اللهُ لِيُكِبَّهُ فِيهَا "سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ [سورۃ الشعراء: 214] (کے نزول پر) رسول اللہ ﷺ نے بنو ہاشم کو جمع کیا اور انہیں دروازے پر بٹھایا، اور اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا اور انہیں گھر کے اندر بٹھایا، پھر آپ ﷺ ان پر مطلع ہوئے اور فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم سے (نیک اعمال کے ذریعے) خرید لو، اپنی گردنیں چھڑانے کی کوشش کرو، اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔“
پھر آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ بنتِ ابوبکر! اے حفصہ بنتِ عمر! اے ام سلمہ! اے فاطمہ بنتِ محمد! اور اے ام الزبیر، رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی! اپنے آپ کو جہنم سے خرید لو، اپنی گردنیں چھڑانے کی کوشش کرو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ سے کچھ نہیں مانگ سکتا اور نہ ہی کچھ کام آ سکتا ہوں۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رو پڑیں اور کہا: اے میرے محبوب! کیا ایسا بھی کوئی دن ہو گا کہ آپ ہمارے کسی کام نہ آ سکیں؟ فرمایا: ”ہاں، تین مواقع پر: جہاں اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے“ [سورۃ الانبیاء: 47] الخ، تو اس وقت میں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اور نور کے وقت، اللہ جس کا نور چاہے پورا کر دے گا، اور جسے چاہے تاریکیوں میں اوندھا گرا دے گا جو اسے ڈھانپ لیں گی، تو اس وقت بھی میں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کچھ اختیار نہیں رکھتا، اور نہ کچھ کام آ سکتا ہوں۔ اور پل صراط پر، اللہ جسے چاہے گا سلامتی دے کر پار کرا دے گا، اور جسے چاہے گا جہنم میں اوندھا گرا دے گا۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے میرے محبوب! ہمیں معلوم ہے کہ میزان کے دو پلڑے ہوتے ہیں، جن میں کوئی چیز رکھی جائے تو ایک بھاری ہو جاتا ہے اور دوسرا ہلکا، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ نور اور تاریکی کیا ہیں، تو پل صراط کیا ہے؟ فرمایا: ”جنت اور جہنم کے درمیان ایک راستہ ہے جس پر سے لوگ گزریں گے، وہ استرے کی دھار کی طرح باریک ہو گا، اور فرشتے دائیں بائیں صف بستہ کھڑے ہوں گے، وہ لوگوں کو ایسے آنکڑوں سے اچک لیں گے جیسے سعدان کانٹے، اور وہ کہیں گے: اے رب! سلامتی دے، سلامتی دے! اور لوگ اس پر سے ہوا کی طرح گزریں گے، تو جسے اللہ چاہے گا اسے سلامتی دے گا، اور جسے چاہے گا اسے اس میں اوندھا گرا دے گا۔“